Every day is a Mother’s Day!

I was checking my news feed a while ago and got to know that people added to my list has suddenly started loving their moms so hard. The reason is mother’s day!

I don’t get the idea of mother’s day. I argued with some of them that why are we just celebrating it on a single day? Do we have more important businesses to do than the person who carried us in her womb for nine months and raised us till today with her unconditional love?

For me, celebrating mother’s day is a kind of insult to mothers. They have been doing their services for us regardless of day, night, weather, illness, worries and frustrations and what we are paying to them as gratitude just a day with display pictures, gifts, hugs and virtual love?

Mother is not just a person. It’s a feeling. A feeling with enormous sacrifice and love. So how can we dedicate this priceless feeling to one day? What’s the reason behind marking special occasion for celebrating mother’s day in a way that implies that mothers do not deserve due respect and care except on this one day. If we are going to make the whole year a Mother’s Day, then I welcome celebrating the occasion with open arms!

One more thing, I couldn’t seem to bear that your mother is sitting next to you and you are wishing her to twitter, facebook and instagram. Seriously? I didn’t change my display picture. Does it mean I have no love for my mother? People are posting stuff and expecting heaven in their pictures and captions. After watching this, I feel really sorry for mates who don’t use these social apps, because they can’t even imagine of a heaven without posting stuff.

Every day is mother’s day. Hope we understand that very soon!

یار! کوئی مزدوروں والا ہےدن آج

بیٹی کے سسرال والوں نے تاریخ رکھ دی ہے،  رحیم نے ہتھوڑی سے زوردار ضرب لوہے پر مارتے ہے کہا۔

“اوے تو فکر کیوں کرتا ہے سب کی بیٹیوں نے بیاہنا ہے”، امجد جلدی سےسلاخیں سیدھی کرتےہوے بولا۔
فکر کیوں نہ کروں؟ سکینہ باجی نے جہیز میں موٹر سائیکل کی فرمائش کی ہے کہ اکبر کو سپلائی کے کام میں ضرورت ہے، کھانا، ہال اور کپڑوں کے لئے تو کمیٹی ڈال رکھی تھی، اب یہ نیا خرچہ سر پر آ گرا ہے، نیند اڑ گئی ہے راتوں کی

۔ضرب کاری کا کام رک گیا رحیم آنکھوں سے کچرا نکالنے میں مصروف ہو گیا۔

امجد نے یہ منظر دیکھا تو غصّے میں بھن کر کہا “وہ تیری سگی بہن ہو کر غیروں والا سلوک کر رہی ہے؟ اکبر خود بھی لے سکتا ہےاچھی نوکری ہے اسکی۔ تو یہ بات نا مان۔ انکار کردے

بچپن کی بات چیت ہے اگر اس نے ختم کردی تو کیا کروں گا ” رحیم نے غور سے امجد کو دیکھتے ہوے پوچھا۔

امجد کچھ بول نا پایا کافی دیر تک اپنا کام دونوں خاموشی سے کرتے رہے پھر اچانک امجد نے کہا “چھوڑ یہ سب چل مالک کے پاس چلتے ہیں وہ قرض دے دے گا۔ ابھی کچھ دنوں پہلے عاصم نے بچے کی پیدائش پر لیا تھا۔ تجھے بھی مل جائے گا”

واقعی مل سکتا ہے؟۔ رحیم نے پوچھا “ہاں مل جاۓ گا، چل اب “۔ امجد کھڑا ہو گیا مالک کے دفتر کے باہر کافی رش تھا۔ ان دونوں کو اب دیہاڑی کا خیال آیا کے کام پورا نہیں ہوا تو آج کے پیسے نہیں ملیں گے۔ امجد سوچنے لگا اسکے بیٹے نے گھر سے سیب کی فرمائیش کی تھی کہ ابّو آتے ہوے ضرور لانا۔

رش میں سے گزرتے ہوے جب دونوں مشکل سے دروازے تک پہنچے تو امجد سیکرٹری پاس گیا۔ اس نے پوچھا کیا کام ہے؟ امجد نے کہا صاحب سے ملنا ہے میرا دوست وہاں کھڑا ہے اسکی بیٹی کی شا–“. “سر آج نہیں آے! پیچھے والوں کو راستہ دیں۔”سیکرٹری نےجلدی میں کہا۔

تھوڑی دیر بعد رحیم کو امجد آتا دکھائی دیا۔ “کہاں رہ گیا تھا، کام کا وقت بھی ختم ہو گیا۔ صاحب سے ملاقات ہوئی؟” رحیم نے پوچھا۔ “نہیں یار، صاحب نہیں آے۔ وہ کوئی مزدوروں والا دن ہے آج چھٹی ہوتی ہے انکی”، امجد نے جواب دیا