امجد صابری اور روایتی مذمت

شدید مذمت، افسوس کا اظہار، شہر کا امن تباہ کرنے کی سازش

یہ وہ رٹے رٹاے الفاظ ہیں جو اس شہر میں ہر ناخوشگوار واقعے کے بعد رسم کی طرح ادا کیے جاتے ہیں۔ پھر اگلے دن وہ خبر بن جاتی ہے اور تیسرے دن ملزمان کی گرفتاری سے متعلق ایک آدھ بیان اور بالاخر چوتھے دن وہ تذکرہ منظر سے غائب ہوکر تاریخ کا حصہ بن جاتا ہے۔ یہ ہے اس عظیم مملکت خداداد میں ہونے والی جرم اور مظلومیت کی داستان۔

آج اس کہانی کا کردار وہ شخص بنا جس کے بارے میں شاید اسکے دشمن نے بھی یہ نہیں سوچا ہوگا کہ اسے اسکے ہی گوشہ عافیت میں شہید کیا جائے گا۔ یہاں شہید کا لقب استعمال کرتے ہوئے میں ہرگز مبالغہ آرائی سے کام نہیں لے رہی کیونکہ جو صرف امن اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا درس دیتا ہوا دنیا سے چلا گیا وہ راہ حق میں تھا اوراس تمغے کے ساتھ جو رخصت ہوا وہ شہید ہے۔ امجد صابری جو کچھ گھنٹوں پہلے تک رب کے حضور مغفرت کی دعائیں مانگ رہا تھا اور حضورﷺ سے دیدار کا طلبگار تھا اپنےمقام پر روانہ ہو گیابس اب آپ اور میں اسکی باتیں، قوالیاں اور اسکی شخصیت کو یاد کریں گے۔ دل اس بات کو اب تک قبول نہیں کرتا کہ امجد صابری اس دنیا میں نہیں رہے۔

بچپن میں دو قوالوں کو مدینے کی صدا لگاتے ہوئے سنتے تھے پھر ہوش سنبھالنے کے بعد امجد صابری نے تاجدار حرم سے محبت کی نہ صرف مثال قائم کی بلکہ اپنے کلام سے ہر مسلاک کے ماننے والوں کو گرویدہ کیا۔ وہ دراصل انسانیت کے دوست تھے اور انسانیت کے دشمنوں نے ہی انہیں دن دیہاڑے نشانہ بنایا۔ ایک طرف موت کا غم تو دوسری طرف حکومت وقت کی بےحسی۔

کیا کبھی کسی کو یاد پڑتا ہے کہ کب کسی ہونے والے حادثے پر کسی ذمہ دار نےاپنی ناکامی تسلیم ہو؟ کبھی اپنی نا اہلی کے باعث عہدہ چھوڑہ ہو؟ چاہے اسکول کے معصوم بچوں کو شہید کیا جائے یا انتہائی مطلوب دہشتگرد انکی حدود میں ڈرون سے ما رے جائیں یا فیکٹریوں میں لوگ جل کر مر جائیں یا ملک کی لوٹی ہوئی دولت کا پول کھل جائے یا کوئی امجد صابری مارا جائے انکی کہانی مذمتی بیانات سے آگے نہیں بڑھتی۔ جب یہ لوگ محفوظ نہیں تو عام آدمی کی جان کی کیا اوقات؟ ایک دوسرے کے گناہوں کو چھپانے کے لئے جمہوریت کو آڑھ بنا رکھا ہے۔ برسوں سے چلا آرہا ہے پتہ نہیں کب تک چلتا رہے گا اور آپ اور میں ایسے ہی امجد صابری کھوتے رہے گے اور مذمتی بیانات سنتے رہیں گے۔